Post

...READ MORE....کیا انسان پیدائش کے لمحے سے لے کر موت کی گھڑی تک صرف اسی کوشش میں رہتا ہے کہ وہ کسی طرح

کیا انسان پیدائش کے لمحے سے لے کر موت کی گھڑی تک صرف اسی کوشش میں رہتا ہے کہ وہ کسی طرح اس محسن کو پہچان سکے جو اسے زندگی کے تمام احسانات سے نجات دلا سکتا ہے۔ ۔ ۔؟کبھی کبھی اچانک کسی کے چہرے پر خاموشی اور غم کی دبیز لہریں چھا جاتی ہیں کیا اس لمحے اسے مراجعت کی فکر ہوتی ہے؟ کیا موت کا مہربان سایہ اس پر پڑتا ہے؟ کبھی کبھی بھری محفلوں میں شام کے وقت سب خاموش ہو جاتے ہیں کیونکہ موت کا فرشتہ ادھر سے گزرتا ہے۔ ۔ ۔ اور سب کی سائیکی جانتی ہے کہ انسان موت کے بغیر کبھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکتا۔