Post

READ MOREپاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع چکوال کے علاقے کلرکہارمیں ایک بس کے

Sent to you by adi via Google Reader:

via Facebook Pakistan's Facebook Wall by Facebook Pakistan on 9/27/11
‫پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع چکوال کے علاقے کلرکہارمیں ایک بس کے حادثے میں مرنے والوں کی تعداد پینتیس ہو گئی ہے جس میں اکثریت بچوں کی ہے۔

اس سے قبل بھی کچھ عرصہ پہلے اسی مقام پر راولپنڈی کے ایک مقامی سکول کی بس بھی حادثے کا شکار ہوئی تھی جس میں تیرہ بچے ہلاک ہوئے تھے۔ اُس بس کی حالت بھی تسلی بخش نہیں تھی اور اُس بس کو فٹنس سرٹیفکیٹ دینے والے موٹر وہیکلز ایگزامینر کے خلاف کارروائی بھی کی گئی تھی۔
فیصل آباد میں ہسپتال کے ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والوں میں سے چھ افراد کی حالت نازک ہے۔

منگل کی صبح کلر کہار اور چکوال سے مزید زخمی افراد کو فیصل آباد منتقل کیا گیا ہے جہاں پورا شہر اس حادثے کی وجہ سے سوگوار ہے۔

فیصل آباد شہر میں منگل کی صبح کئی مقامات پر ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

شہر کے علاقے جےڈی چوک میں نو بچوں کی اجتماعی نمازہ جنازہ ادا کی گئی جس میں شہریوں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔

شہر کے نواحی علاقے ملت ٹاؤن میں بھی دو بچوں کی نمازہ جنازہ ادا کی گئی اور یہاں بھی لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے۔

حادثے کے سوگ میں شہر کے اکثر تجارتی مرکز بند رہے۔

موٹر وے پولیس کے ترجمان جاوید چوہدری کے مطابق فیصل آباد کے ایک مقامی سکول 'ملت گرامر' کے ایک سو سے زائد طلباء پکنک کے لیے کلر کہار آئے تھے اور واپس جاتے ہوئے سالٹ رینج کے قریب سکول بس کی بریک فیل ہوگئی جس کے باعث ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور بس قلاں بازیاں کھاتی ہوئی گہری کھائی میں جاگری جس سے پندرہ طلباء موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

حادثے میں پچاس سے زیادہ طلباء زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

چکوال کے ضلعی پولیس افسر علی محسن کے مطابق گاڑی کا یہ حادثہ تیز رفتاری اور بریک فیل ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس بس میں بہتر افراد کے بیٹھنے کی گُنجائش تھی جس میں ایک سو پانچ افراد سوار تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔


سکول کے بچے ایک پکنک سے واپس آرہے تھے۔

حادثے کے بعد زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے چکوال کے ضلعی ہسپتال کے علاوہ فوجی فاونڈیشن کلرکہار میں داخل کروادیا گیا جہاں پر دس بچے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ساتویں کلاس سے لے کر دسویں جماعت کے طلباء شامل تھے۔

مقامی پولیس نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ارباب عالمگیر کے علاوہ موٹر وے پولیس کے حکام موقع پر پہنچ گئے اور اُنہوں نے دیگر امدادی اداروں کے ساتھ مل کر زخمیوں کو وہاں سے نکالا۔ معلوم ہوا ہے کہ اس حادثے میں ملت گرائمر سکول کے پرنسپل بھی ہلاک ہوگئے ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی بس سینتیس سال پُرانی تھی۔

کچھ عرصہ پہلے اسی مقام پر راولپنڈی کے ایک مقامی سکول کی بس بھی حادثے کا شکار ہوئی تھی جس میں تیرہ بچے ہلاک ہوئے تھے۔ اُس بس کی حالت بھی تسلی بخش نہیں تھی اور اُس بس کو فٹنس سرٹیفکیٹ دینے والے موٹر وہیکلز ایگزامینر کے خلاف کارروائی بھی کی گئی تھی۔
may thier souls rest in peace‬


Wall Photos